تازہ ترین

دسمبر 01, 2020

عبدالرحمٰن غازی کون تھے ؟ آپ کے زندگی اور فتوحات کے بارے میں دلچسپ معلومات ۔ نومی نالج


غازی عبدالرحمٰن کا تعلق ترک قبائل کے کائی قبیلے سے تھا۔ آپ کا نام عظیم صحابی رسول عبدالرحمٰن بِن عَوف سے منسوب ہے ۔ اُردو تاریخ میں بھی آپ کو عبدالرحمٰن کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ 

عبدالرحمٰن غازی ایک عظیم کمانڈر جنہوں نے سلطنت عثمانیہ کے قیام کے دوران  بہترین خدمات سر انجام دی۔ آپ کی جائے پیدائش تُرکی ہے ۔ آپ ارطغرل غازی کے ایک بہادر جانباز دوست تھے جو ارطغرل کے بعد اُن کے بیٹے سُلطان عُثمان غازی اور پھر اُن کے بیٹے سُلطان اُورہان غازی تک خدمات سر انجام دیتے رہے ۔ 

غازی عبد الرحمٰن اَلپ نے کئیں جنگوں میں حِصہ لیا اور مضبوط قلعے فتح کر کے خلافت عُثمانہ کے پرچم کو بُلند کیا ۔ 


غازی عبدالرحمٰن اَلپ کے بارے میں مشہور تھا کہ آپ رات کو دُشمن کی طرف تیر چلائے بغیر نہیں سویا کرتے اور دن کو گھوڑے پر بیٹھ کر تلوار سے لڑے بغیر نہیں اُترتے ۔ 

عبدالرحمٰن غازی نے بازنطینوں فوجیوں کے خلاف کئیں معرکے لڑے اور کئیں مضبوط قلعے فتح کر کے یہ ثابت کیا کہ بے شک جیت ہمیشہ حق کی ہوتی ہے ۔ 

غازی عُثمان کے دور میں آپ کو ممتاز حیثیت حاصل تھی اور آپ نے کئیں جنگوں میں سپہ سالاری کے خدمات سر انجام دئیے ۔ 

عبدالرحمٰن بہادر آدمی تھے اور اپنے مذہب اورآقا کے وفادار سپاہی تھے ۔ آپ جوان اور لمبے قد کے ساتھ ساتھ ایک مضبوط اور سخت آدمی تھے ۔ عبدالرحمٰن سُلیمان شاہ کے آخری دِنوں میں ساتھ تھے اور اُن کے ذاتی مُحافط بھی تھے ۔ 

غازی عبدالرحمٰن کے نظم ضبط ، دوستی اور لوگوں کی فلاح و بہبود کی وجہ سے بہت سے مقامی اناطولیوں نے اسلام قبول کر کے خلافت کے وفادار ہوئے ۔ عبدالرحمٰن غازی نے سَلطنت عُثمانیہ کے بانی سُلطان عُثمان بِن ارطغرل کے ساتھ کئیں جنگوں میں حِصہ لیا ۔ 

عبدالرحمٰن غازی اُس وقت بھی عُثمان غازی کے ساتھ تھے جب اُنہوں نے اپنے چچا کو مارا کیوں کہ اُنہوں نے عُثمان کو دھوکہ دیا تھا ۔ عبدالرحمٰن اَلپ کا عظیم کارنامہ ایبدوز جیسے عظیم قلعے کو فتح کرناہے جو کہ انتہائی مشکل کام تھا اور یہیں قلعہ بازنطینی فوجیوں کی قوت تھی ۔ 

مؤرخین کے مطابق قلعے کی فتح کے پیچھے محبت کی کہانی ہے ۔ محل کے مکان مالک کی بیٹی نے ایک بار ایک نوجوان کو خواب میں دیکھا جس نے اُسے گڑھے میں گرنے کے بعد بچایا ۔ اُسے اُس شخص سے پیار ہوگیا اور جب اُس نے حقیقی زندگی میں غازی عبالرحمٰن اَلپ کے چہرے کو سلطنت کا محاصرہ کرنے والے عُثمانی فوجیوں کے رہنما کی حیثیت سے دیکھا تو اُس کو یاد آیا کہ وہ اُس کے خوابوں والا آدمی تھا ۔ اُس نے ایک فوجی پر پتھر پھینک دیا جس پر تحریر بندھی ہوئی تھی جس میں لکھا تھا کہ وہ اُسے سلطنت دے دی گی ۔ اُس نے عبدالرحمٰن غازی سے کہا کہ وہ رات کو قلعے پر چھاپہ مارنے کے لیئے واپس آجائے اور وہ اُنہیں اندر لے جائیگی ۔ پھر عُثمانی فوج نے محل میں موجود افراد کو ایسا ظاہر کیا کہ وہ پیچھے ہٹ رہے ہیں ۔ محل میں موجود فوجیوں نے سوچھا کہ عُثمانی چلے گئے ۔ عبدالرحمٰن غازی رات کو لوٹ کر اُنہیں زمیندار کی بیٹی نے اپنے ساتھ لے جایا اور پھر عُثمانی فوجیوں نے حملہ کر کے قلعہ فتح کیا ۔ اُس کی بیٹی اور عبدالرحمٰن کے مابین ایک خوشکن اختتام ہوا ۔ اللہ رب العزت نے اُن کو ایک بچہ بھی دیا ۔ 

آپ کو ایواڈوز فتح کرنے والے کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ غازی عبدالرحمٰن اَلپ کو سُلیمان شاہ ، ارطغرل غازی ، عُثمان اور اورہان غازی کے دِل میں ایک خاص مقام اور جگہ حاصل تھی ۔ اورہان نے غازی عبدالرحمٰن اَلپ کی بیٹی سے شادی کی تھی ۔  

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

مینیو