تازہ ترین

دسمبر 02, 2020

زیادہ سوچنے کی بیماری کیا ہے ؟ اسکے وجوہات اور علاج کیسے کریں ۔ نومی نالج



آج کی تحریر میں ہم آپ کو زیادہ سوچنے کی بیماری کے نقصانات کے بارے میں بتائیں گے ۔

زیادہ سوچنے کی بیماری کے نقصانات ۔ ۔ ۔ ۔ 

زیادہ سوچنے کے بیماری کا شکار لوگوں کی نشانیاں ۔ ۔ ۔ ۔ 

زیادہ سوچنے کی بیماری کی وجوہات ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 

زیادہ سوچنے کی بیماری کا حل ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 


کیا آپ بہت زیادہ سوچتے ہیں ؟

 اگر آپ بہت زیادہ سوچتے ہیں تو یاد رکھیں ماہرین نفسیات کے مطابق زیادہ سوچنے کی بیماری انسان کی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیئے نقصان دہ ہے ۔ ویسے تو زیادہ سوچنے کی بیماری کے کئی نقصانات ہے مگر اِن میں سے چند یہ ہے ۔

Photo by Andrea Piacquadio from Pexels 




زیادہ سوچنے کی بیماری کے نقصانات 

زیادہ سوچنے کی بیماری میں مبتلا انسان کی زندگی پریشانیوں سے بھری رہتی ہے ۔ وہ اپنے ماضی ، حال اور مستقبل تینوں حالتوں کے بارے میں سوچ سوچ کر پریشان کرتا رہتا ہے ۔ 

زیادہ سوچنی کی بیماری مسائل کو حل کرنے میں رکاوٹ کا باعث بنتی ہے ۔ اس کی وجہ سے انسان کی ساری توجہ مسائل کے حل کی بجائے صرف مسائل پر ہی مرکوز رہتی ہے ۔ اس میں مبتلا انسان مسائل کے حل کی بجائے صرف مسائل کے بارے میں سوچتا رہتا ہے ۔ 

زیادہ سوچنے کی بیماری انسان کے اندر فیصلہ لینے کی طاقت کو کمزور کرتی ہے ۔ اس کے لیئے چھوٹے چھوٹے فیصلے تک لینا مشکل ہو جاتا ہے ۔ 

زیادہ سوچنی کی بیماری انسان کی نیند کو بُری طرح متاثر کرتی ہے ۔ ماہرین کے مطابق زیادہ سوچنے کی بیماری میں مبتلا انسان گہری اور پرسکون نیند نہیں سو سکتا ۔ 

سوچنے کی بیماری کا شکار لوگوں کی نشانیاں

کیسے پتا چلتا ہے کہ کہ کوئی شخص سوچنے کی بیماری میں مبتلا ہے ؟

اس سوال کے جواب کے لیئے ماہرین نے سوچنے کے بیماری کا شکار لوگوں کے اندر بائی جانے والی نشانیوں کو اکٹھا کیا ہے جو یہ ہے ۔

انہیں رات سونے سے پہلے سوچنے کی وجہ سے سونے میں مشکل پیش آتی ہے ۔ 

اُن کا ذہن ہر وقت چاہے وہ جاگ رہے ہوں یا سو رہے ہوں کچھ نہ کچھ سوچتا رہتا ہے ۔ 

وہ اپنے ماضی کو ذہن میں زندہ رکھتے ہوئے اس کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں ۔ خاص طور پر وہ اپنے ماضی کے شرمندہ کرنے والے واقعات یا لمحات کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں ۔ 

وہ اپنا زیادہ وقت اپنی غلطیوں اور کمیوں کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں ۔ 

وہ اپنے مستقبل کے نامعلوم خوف میں مبتلا ہو کر ہر وقت بُرا سوچتے رہتے ہیں ۔ انھیں لگتا ہے کہ مستقبل میں ان کے ساتھ بُرا ہی ہوگا ۔ ان کے ذہن میں ہر وقت کہیں یہ نہ ہو جائے یا کہیں وہ نہ ہو جائے جیسے پریشانیاں پیدا کرنے والے سوالات پیدا ہوتے رہتے ہیں ۔ 

وہ لوگوں کی رویوّں اور باتوں میں پوشیدہ معنی ڈھونڈنے کے لیئے سوچتے رہتے ہیں ۔ اس نے ایسا کیوں کہا ؟ اس نے ایسا کیوں کیا ؟ اس کی اس حرکت یا بات کا کیا مطلب ہے ؟ جیسے سوالات ان کے ذہن میں جلتے رہتے ہیں اور وہ ان کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں ۔ 

وہ لوگوں سے ہونے والی گفتگو یا ملاقات کے بعد بہت زیادہ سوچتے ہیں کہ مجھے اس وقت ایسا کرنا یا کہنا چاہئیے تھا ۔ یا مجھے اس وقت ایسا نہیں کہنا یا کرنا چاہئیےتھا ۔ خاص طور پر اگر کوئی انھیں ایسی بات کہہ دے یا ان کے ساتھ ایسا کچھ کر دے جو انھیں ناپسند ہو ، وہ اسے بار بار سوچتا ہے ۔ 

بے شمار بار وہ اپنی سوچوں میں اتنے گُم ہو جاتے ہیں کہ وہ اس بات سے بھی بےخبر ہو جاتے ہیں کہ ان کے حال میں کیا ہو رہا ہے ۔ 

وہ اکثر اپنے کسی مخصوص عمل کے بارے میں سوچتے ہیں  کہ اگر وہ ماضی میں یہ کام نہ کرتے تو وہ آج خوش ہوتے یا آج ان کی زندگی مختلف ہوتی ۔ 

بےعزتی ان کے ذہن میں بیٹھ جاتی ہے اور وہ اپنی بےعزتی کے بارے میں سوچ سوچ کر اپنا بُرا حال کر لیتے ہیں ۔ 

زیادہ سوچنے کی بیماری کی وجوہات

زندگی میں انسان کو بے شمار مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ مگر جو انسان مسائل کو حل کرنے کی بجائے ان کے بارے میں سوچتا ہے ۔ وہ زیادہ سوچنے کی بیماری میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ ہمارے ہاں چونکہ لوگوں کو مسائل حل کرنا نہیں سکھایا جاتا ۔ اس لئیے جب بھی کسی انسان کی زندگی میں کوئی مسٔلہ پیش آتا ہے تو وہ شعوری طور پر اس کے حل کے بارے میں سوچنے کی بجائے لاشعوری طور پر اس مسٔلہ کے بارے میں سوچنے لگتا ہے اور یہ آہستہ آہستہ سوچنے کی بیماری بن جاتا ہے اور انسان زیادہ سوچنے کی بیماری میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ ایسی صورت حال انسان کو  چاہئیے کہ وہ اپنے مسائل کو حل کرے اور اگر اسے مسائل حل کرنے نہیں آتے تو وہ مسائل کو حل کرنا سیکھے ۔ 

ناکامی سے ڈرنے والا انسان بھی زیادہ سوچنے کی بیماری میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ کیونکہ کوئی بھی کام شروع کرنے سے پہلے وہ ڈرتا ہے کہ کہیں وہ اس کام میں ناکام نہ ہو جائے ۔ وہ اپنے کام اور پھر کام کے بعد ناکامی اور پھر ناکامی کے بعد ہونے والی بےعزتی کے بارے میں سوچ سوچ کر زیادہ سوچنے کی بیماری میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ ایسی صورت حال کے شکار انسان کو اپنی ناکامی اور بے عزتی کے خوف پر کام کرنا سیکھنا چاہئیے ۔ 

آئیڈیل سیچویشن کا متلاشی انسان بھی زیادہ سوچنے کی بیماری میں مبتلا ہو جاتا ہے کیونکہ وہ اپنی زندگی کے ہر مرحلے میں یہیں سوچتا رہتا ہے کہ کاش یہ ایسا ہوتا یا کاش یہ ایسا نہ ہوتا ۔ حالانکہ زندگی میں پرفیکٹ یا آئیڈیل سیچویشن نہیں ہوتی اور اگر ہو بھی تب بھی مستقل نہیں ہوتی ۔ ایسی صورت حال کے شکار انسانوں کو حقیقت پسند ہونا سیکھنا چاہئیے۔ 

ہر کام کو کنٹرول اور اپنی مرضی کے مطابق کرنے کی شدید خوہش رکھنے والا انسان بھی زیادہ سوچنے کی بیماری میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ جب حالات اس کے کنٹرول یا مرضی کے مطابق نہ ہوں تو وہ انھیں صرف سوچ کر تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔

ماضی کے غلطیوں کے بارے میں بھی پچتانے والا انسان بھی زیادہ سوچنے کی بیماری میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ حالانکہ ماضی سے صرف سیکھا جا سکتا ہے اسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا ۔ جو آپ نے کرنا تھا وہ کر دیا ۔ جو آپ نے کہنا تھا وہ کہہ دیا ۔ یاد رہے اب پچتانے اور پریشان ہونے سے ماضی تبدیل نہیں ہو جائے گا ۔ ایسی صورت حال کے شکار انسانوں کو ماضی سے سبق سیکھ کر حال میں رہنا سیکھنا چاہئیے ۔

زیادہ سوچنے کی بیماری کا حل

سوچوں کو ذہن میں سوچنے کے بجائے پیپر پر لکھ سوچیں ۔ ایسا کرنے کے دو اہم فائدے ہوں گے ۔ ایک یہ کہ پیپر پر لکھنے سے سوچیں آپ کے ذہن کے اندر سے نکل کر باہر آنا شروع ہو جائیں گی اور آپ کا ذہن سوچوں سے خالی ہونا شروع ہو جاتا ہے ۔ دوسرا یہ فائدہ ہوگا کہ باتیں آپ کے ذہن میں اکٹھی ہونے کی بجائے پیپر پر اکٹھی ہونا شروع ہوجائیں گی ۔ ماہرین کہتے ہیں کہ ذہن میں باتیں اکٹھی کرنے کی بجائے کسی پیپر پر اکٹھی کریں ۔


مسائل اور مشکلوں کے بارے میں سوچنے کی بجائے ان کے حل کے بارے میں سوچیں ۔ مسائل کو دو حصوں میں تقسیم کریں ۔ ایک موسمی مسائل اور دوسرا غیر موسمی مسائل ۔ مثال کے طور پر سکول سے متعلق سارے مسائل سکول سے فارغ ہونے کے بعد اور کالج کے سارے مسائل کا کالج سے فارغ ہونے کے بعد ختم ہوجاتے ہیں ۔ اسی طرح اپنے مسائل کو سامنے رکھ کر سوچیں کہ کیا یہ مسٔلہ جو مجھے آج پریشانی دے رہی ہے ۔ کل ایک یا دو یا تین سال بعد بھی اسی طرح پریشانی دیتا رہے گا یا میرے لیئے کوئی معنی رکھے گا ۔ اگر نہیں تو یہ مسٔلہ موسمی ہے اور موسم ختم ہونے پر یہ بھی ختم ہو جائے گا ۔ ایسا سوچنے کے بعد موسم ختم ہونے تک اگر مسٔلے کا کوئی حل نہ نکلتا ہو تو مضبوطی سے اس کا سامنا کریں ۔ 

ماہرین نفسیات کے مطابق انسانی ذہن کو دن میں ہونے والے تمام یا کم از کم خاص واقعات کو سوچنے کا وقت چاہئیے ہوتا ہے ۔ اگر آپ اپنے ذہن کی اس کا خیال نہ رکھتے ہوئے اسے سوچنے کا وقت فراہم نہ کریں تو وہ باتیں اکٹھی کرتا رہتا ہے ۔ جب اس کے پاس بہت سی باتیں جمع ہو جائیں تو وہ انھیں بے وقت سوچنے لگتا ہے ۔ اس لیئے ہو سکے تو اپنے ذہن کو ہر روز اور اگر ہر روز ممکن نہ ہو تو ہفتے میں کم کم ایک بار سوچنے کا وقت فراہم کریں ۔ 

ہر وقت سوچوں سے بچنے کے لئیے سوچنے کے لئیے دن یا ہفتے کا ایک مخصوص وقت مقرر کریں ۔ اس وقت کو آپ سوچنے کا وقت کا نام دے سکتے ہیں ۔ یہ وقت دن کے کسی بھی حصے یعنی صُبح ، دوپہر ، شام یا رات کا وقت ہو سکتا ہے ۔ شروع شروع میں اپنے ذہن کو کم از کم ایک گنٹھہ سوچنے کے لئیے دیں ۔ بعد میں یہ وقت کم کر کے پندرہ منٹ تک بھی لایا جا سکتا ہے ۔ یاد رکھیں اُس وقت آپ صرف سوچیں گے اور کچھ نہیں کریں گے ۔

بستر پر لیٹ کر سوچنے کے بجائے بیٹھ کر سوچیں ۔ یاد رکھیں جو لوگ بستر پر لیٹ کر سوچتیں ہیں ان کی نیند اکثر ڈسٹرب رہتی ہے ۔ 

اپنے سوچوں کا دھیان رکھتے ہوئے شعوری طور پر کوشش کریں کہ آپ کسی ایک بات کو بار بار اور زیادہ دیر تک نہ سوچیں ۔ اگر آپ کا ذہن لاشعوری طور پر کسی ایک بات کو سوچنے کے لئیے پکڑ لے تع شعوری کوشش سے اپنے ذہن سے بات چھین لیں اور اسے سوچنے کے لئیے اس کی مرضی کے بجائے اپنی مرضی کی بات پکڑا دیں ۔ 

یاد رکھیں دنیا میں ہر انسان میں کوئی نہ کوئی کمی ضرور ہوتی ہے اور اس سے غلطیاں بھی ہوتی رہتی ہے ۔ اس لئیے اپنی کمیوں اور غلطیوں کے بارے میں سوچنے کی بجائے اپنی خوبیوں اور اپنی کامیابیوں کے بارے میں سوچیں ۔ 

لوگوں کے ریوّں اور باتوں میں سے پوشیدہ معنی تلاش نہ کریں ۔ اگر کوئی آپ کو کچھ ایسا کہہ دے یا آپ کے ساتھ کچھ ایسا کر دے جو آپ کو بُرا لگے تو اس کے بارے میں سوچ سوچ کر اپنی ذہنی صحت خراب نہ کریں ۔ دوسرے شخص نے آپ کے ساتھ جو بُرا کرنا تھا وہ اس نے کر دیا ۔  اب آپ اس کی برائی کو سوچ سوچ کر اپنے ساتھ خود بُرا نہ کریں ۔ لوگوں سے گفتگو اور ملاقات کے بعد اُن کی باتوں یا ملاقات کو اپنی سَر سوار نہ ہونے دیں ۔ 

حال میں رہیں ۔ اگر آپ کا ذہن لاشعوری طور پر ماضی کے ملال یا مستقبل کے خوف چلا جائے یا جانے کی کوشش کرے تو اسے شعوری کوشش سے حال میں لائیں ۔ 

اپنی زندگی پر کام کریں ۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ زیادہ تر بےمقصد اور بےکار زندگی گزارنے والے انسان زیادہ سوچنے کی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں ۔ اس لئیے اپ اپنی بے مقصد زندگی کو با مقصد زندگی میں تبدیل کریں کیونکہ با مقصد زندگی گزارنے والے انسان کا ذہن خود ہی بے مقصد ، بےکار اور بے معنی باتوں اور حرکتوں کو سوچنا پسند ہی نہیں کرتا ۔

یہ بھی پڑھیں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

مینیو