آج کی تحریر میں ہم آپ کو زیادہ سوچنے کی بیماری کے نقصانات کے بارے میں بتائیں گے ۔
زیادہ سوچنے کی بیماری کے نقصانات ۔ ۔ ۔ ۔
زیادہ سوچنے کے بیماری کا شکار لوگوں کی نشانیاں ۔ ۔ ۔ ۔
زیادہ سوچنے کی بیماری کی وجوہات ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
زیادہ سوچنے کی بیماری کا حل ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
کیا آپ بہت زیادہ سوچتے ہیں ؟
اگر آپ بہت زیادہ سوچتے ہیں تو یاد رکھیں ماہرین نفسیات کے مطابق زیادہ سوچنے کی بیماری انسان کی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیئے نقصان دہ ہے ۔ ویسے تو زیادہ سوچنے کی بیماری کے کئی نقصانات ہے مگر اِن میں سے چند یہ ہے ۔
![]() |
| Photo by Andrea Piacquadio from Pexels |
زیادہ سوچنے کی بیماری کے نقصانات
زیادہ سوچنے کی بیماری میں مبتلا انسان کی زندگی پریشانیوں سے بھری رہتی ہے ۔ وہ اپنے ماضی ، حال اور مستقبل تینوں حالتوں کے بارے میں سوچ سوچ کر پریشان کرتا رہتا ہے ۔
زیادہ سوچنی کی بیماری مسائل کو حل کرنے میں رکاوٹ کا باعث بنتی ہے ۔ اس کی وجہ سے انسان کی ساری توجہ مسائل کے حل کی بجائے صرف مسائل پر ہی مرکوز رہتی ہے ۔ اس میں مبتلا انسان مسائل کے حل کی بجائے صرف مسائل کے بارے میں سوچتا رہتا ہے ۔
زیادہ سوچنے کی بیماری انسان کے اندر فیصلہ لینے کی طاقت کو کمزور کرتی ہے ۔ اس کے لیئے چھوٹے چھوٹے فیصلے تک لینا مشکل ہو جاتا ہے ۔
زیادہ سوچنی کی بیماری انسان کی نیند کو بُری طرح متاثر کرتی ہے ۔ ماہرین کے مطابق زیادہ سوچنے کی بیماری میں مبتلا انسان گہری اور پرسکون نیند نہیں سو سکتا ۔
سوچنے کی بیماری کا شکار لوگوں کی نشانیاں
کیسے پتا چلتا ہے کہ کہ کوئی شخص سوچنے کی بیماری میں مبتلا ہے ؟
اس سوال کے جواب کے لیئے ماہرین نے سوچنے کے بیماری کا شکار لوگوں کے اندر بائی جانے والی نشانیوں کو اکٹھا کیا ہے جو یہ ہے ۔
انہیں رات سونے سے پہلے سوچنے کی وجہ سے سونے میں مشکل پیش آتی ہے ۔
اُن کا ذہن ہر وقت چاہے وہ جاگ رہے ہوں یا سو رہے ہوں کچھ نہ کچھ سوچتا رہتا ہے ۔
وہ اپنے ماضی کو ذہن میں زندہ رکھتے ہوئے اس کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں ۔ خاص طور پر وہ اپنے ماضی کے شرمندہ کرنے والے واقعات یا لمحات کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں ۔
وہ اپنا زیادہ وقت اپنی غلطیوں اور کمیوں کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں ۔
وہ اپنے مستقبل کے نامعلوم خوف میں مبتلا ہو کر ہر وقت بُرا سوچتے رہتے ہیں ۔ انھیں لگتا ہے کہ مستقبل میں ان کے ساتھ بُرا ہی ہوگا ۔ ان کے ذہن میں ہر وقت کہیں یہ نہ ہو جائے یا کہیں وہ نہ ہو جائے جیسے پریشانیاں پیدا کرنے والے سوالات پیدا ہوتے رہتے ہیں ۔
وہ لوگوں کی رویوّں اور باتوں میں پوشیدہ معنی ڈھونڈنے کے لیئے سوچتے رہتے ہیں ۔ اس نے ایسا کیوں کہا ؟ اس نے ایسا کیوں کیا ؟ اس کی اس حرکت یا بات کا کیا مطلب ہے ؟ جیسے سوالات ان کے ذہن میں جلتے رہتے ہیں اور وہ ان کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں ۔
وہ لوگوں سے ہونے والی گفتگو یا ملاقات کے بعد بہت زیادہ سوچتے ہیں کہ مجھے اس وقت ایسا کرنا یا کہنا چاہئیے تھا ۔ یا مجھے اس وقت ایسا نہیں کہنا یا کرنا چاہئیےتھا ۔ خاص طور پر اگر کوئی انھیں ایسی بات کہہ دے یا ان کے ساتھ ایسا کچھ کر دے جو انھیں ناپسند ہو ، وہ اسے بار بار سوچتا ہے ۔
بے شمار بار وہ اپنی سوچوں میں اتنے گُم ہو جاتے ہیں کہ وہ اس بات سے بھی بےخبر ہو جاتے ہیں کہ ان کے حال میں کیا ہو رہا ہے ۔
وہ اکثر اپنے کسی مخصوص عمل کے بارے میں سوچتے ہیں کہ اگر وہ ماضی میں یہ کام نہ کرتے تو وہ آج خوش ہوتے یا آج ان کی زندگی مختلف ہوتی ۔
بےعزتی ان کے ذہن میں بیٹھ جاتی ہے اور وہ اپنی بےعزتی کے بارے میں سوچ سوچ کر اپنا بُرا حال کر لیتے ہیں ۔
زیادہ سوچنے کی بیماری کی وجوہات
زندگی میں انسان کو بے شمار مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ مگر جو انسان مسائل کو حل کرنے کی بجائے ان کے بارے میں سوچتا ہے ۔ وہ زیادہ سوچنے کی بیماری میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ ہمارے ہاں چونکہ لوگوں کو مسائل حل کرنا نہیں سکھایا جاتا ۔ اس لئیے جب بھی کسی انسان کی زندگی میں کوئی مسٔلہ پیش آتا ہے تو وہ شعوری طور پر اس کے حل کے بارے میں سوچنے کی بجائے لاشعوری طور پر اس مسٔلہ کے بارے میں سوچنے لگتا ہے اور یہ آہستہ آہستہ سوچنے کی بیماری بن جاتا ہے اور انسان زیادہ سوچنے کی بیماری میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ ایسی صورت حال انسان کو چاہئیے کہ وہ اپنے مسائل کو حل کرے اور اگر اسے مسائل حل کرنے نہیں آتے تو وہ مسائل کو حل کرنا سیکھے ۔
ناکامی سے ڈرنے والا انسان بھی زیادہ سوچنے کی بیماری میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ کیونکہ کوئی بھی کام شروع کرنے سے پہلے وہ ڈرتا ہے کہ کہیں وہ اس کام میں ناکام نہ ہو جائے ۔ وہ اپنے کام اور پھر کام کے بعد ناکامی اور پھر ناکامی کے بعد ہونے والی بےعزتی کے بارے میں سوچ سوچ کر زیادہ سوچنے کی بیماری میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ ایسی صورت حال کے شکار انسان کو اپنی ناکامی اور بے عزتی کے خوف پر کام کرنا سیکھنا چاہئیے ۔
آئیڈیل سیچویشن کا متلاشی انسان بھی زیادہ سوچنے کی بیماری میں مبتلا ہو جاتا ہے کیونکہ وہ اپنی زندگی کے ہر مرحلے میں یہیں سوچتا رہتا ہے کہ کاش یہ ایسا ہوتا یا کاش یہ ایسا نہ ہوتا ۔ حالانکہ زندگی میں پرفیکٹ یا آئیڈیل سیچویشن نہیں ہوتی اور اگر ہو بھی تب بھی مستقل نہیں ہوتی ۔ ایسی صورت حال کے شکار انسانوں کو حقیقت پسند ہونا سیکھنا چاہئیے۔
ہر کام کو کنٹرول اور اپنی مرضی کے مطابق کرنے کی شدید خوہش رکھنے والا انسان بھی زیادہ سوچنے کی بیماری میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ جب حالات اس کے کنٹرول یا مرضی کے مطابق نہ ہوں تو وہ انھیں صرف سوچ کر تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔
ماضی کے غلطیوں کے بارے میں بھی پچتانے والا انسان بھی زیادہ سوچنے کی بیماری میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ حالانکہ ماضی سے صرف سیکھا جا سکتا ہے اسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا ۔ جو آپ نے کرنا تھا وہ کر دیا ۔ جو آپ نے کہنا تھا وہ کہہ دیا ۔ یاد رہے اب پچتانے اور پریشان ہونے سے ماضی تبدیل نہیں ہو جائے گا ۔ ایسی صورت حال کے شکار انسانوں کو ماضی سے سبق سیکھ کر حال میں رہنا سیکھنا چاہئیے ۔
زیادہ سوچنے کی بیماری کا حل
سوچوں کو ذہن میں سوچنے کے بجائے پیپر پر لکھ سوچیں ۔ ایسا کرنے کے دو اہم فائدے ہوں گے ۔ ایک یہ کہ پیپر پر لکھنے سے سوچیں آپ کے ذہن کے اندر سے نکل کر باہر آنا شروع ہو جائیں گی اور آپ کا ذہن سوچوں سے خالی ہونا شروع ہو جاتا ہے ۔ دوسرا یہ فائدہ ہوگا کہ باتیں آپ کے ذہن میں اکٹھی ہونے کی بجائے پیپر پر اکٹھی ہونا شروع ہوجائیں گی ۔ ماہرین کہتے ہیں کہ ذہن میں باتیں اکٹھی کرنے کی بجائے کسی پیپر پر اکٹھی کریں ۔
مسائل اور مشکلوں کے بارے میں سوچنے کی بجائے ان کے حل کے بارے میں سوچیں ۔ مسائل کو دو حصوں میں تقسیم کریں ۔ ایک موسمی مسائل اور دوسرا غیر موسمی مسائل ۔ مثال کے طور پر سکول سے متعلق سارے مسائل سکول سے فارغ ہونے کے بعد اور کالج کے سارے مسائل کا کالج سے فارغ ہونے کے بعد ختم ہوجاتے ہیں ۔ اسی طرح اپنے مسائل کو سامنے رکھ کر سوچیں کہ کیا یہ مسٔلہ جو مجھے آج پریشانی دے رہی ہے ۔ کل ایک یا دو یا تین سال بعد بھی اسی طرح پریشانی دیتا رہے گا یا میرے لیئے کوئی معنی رکھے گا ۔ اگر نہیں تو یہ مسٔلہ موسمی ہے اور موسم ختم ہونے پر یہ بھی ختم ہو جائے گا ۔ ایسا سوچنے کے بعد موسم ختم ہونے تک اگر مسٔلے کا کوئی حل نہ نکلتا ہو تو مضبوطی سے اس کا سامنا کریں ۔
ماہرین نفسیات کے مطابق انسانی ذہن کو دن میں ہونے والے تمام یا کم از کم خاص واقعات کو سوچنے کا وقت چاہئیے ہوتا ہے ۔ اگر آپ اپنے ذہن کی اس کا خیال نہ رکھتے ہوئے اسے سوچنے کا وقت فراہم نہ کریں تو وہ باتیں اکٹھی کرتا رہتا ہے ۔ جب اس کے پاس بہت سی باتیں جمع ہو جائیں تو وہ انھیں بے وقت سوچنے لگتا ہے ۔ اس لیئے ہو سکے تو اپنے ذہن کو ہر روز اور اگر ہر روز ممکن نہ ہو تو ہفتے میں کم کم ایک بار سوچنے کا وقت فراہم کریں ۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں