تازہ ترین

دسمبر 05, 2020

حُضوراقدسﷺ اور حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عُمرؓ کا ایک عجیب واقعہ نومی نالج

ایک مرتبہ سخت دھوپ میں دوپہر کے وقت حضرت ابوبکررضی اللہ عنہُ مسجد نبوی میں تشریف لے گئے ۔ حضرت عُمر رضی اللہ عنہُ کو خبر ہوئی ۔ وہ بھی اپنے گھر سے تشریف لائے اور حضرت ابوبکرؓ سے پوچھا کہ اس وقت کیسے آنا ہوا ۔ اُنہوں نے فرمایا کہ بھوک کی شِدَّت نے مجبور کیا ۔ حضرت عُمرؓ نے فرمایا ۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اِسی بےچینی نے مجھے بھی مجبور کیا ۔

نوٹ : 

یہ قِصہ فضائل صدقات سے لیا گیا ہے ۔ 

یہ دونوں اسی حال میں تھے کہ حُضور اَقْدس صلی اللہُ علیہ وسلم اپنے دولت کدہ سے تشریف لائے اور اُن سے دریافت کیا کہ تُم اس وقت کہاں آئے ۔ انہوں نے عرض کیا کہ حُضور بھوک کی شدت نے مجبور کیا ۔ حُضورﷺ نے فرمایا کہ اسی مجبوری سے میں بھی آیا ہوں ۔ یہ تینوں حضرات اُٹھ کر حضرت ابُو اَیوب انصاری رضی اللہُ عنہُ کے مکان پر تشریف لے گئے ۔ وہ خود تو موجود نہیں تھے ، اُن کی اہلیہ نے بہت خوشی کا اِظہار کیا ۔

حُضورﷺ نے دریافت کیا کہ اَبواَیوب کہاں ہیں ۔ بیوی نے عرض کیا کہ حضور ابھی آتے ہیں ۔ اتنے میں ابوایوبؓ آگئے اور جلدی سے کھجور کا ایک توشہ توڑ کر لائے ۔ حُضور نے فرمایا ، سارا خوشہ کیوں تھوڑا ، اس میں سے پکی پکی کیوں نہ چھانٹ لیں ۔ انہوں نے عرض کیا حضرت ، اس خیال سے توڑ لیا کہ پکی اور آدھ کچری اور خشک و تر ہر قسم کے سامنے ہو جائیں جس کی رغبت ہو ۔ اُن حضرات نے ہر قسم کی کجوریں اس خوشہ میں سے نوش فرمائیں ۔ اتنی دیر میں حضرت ابوایوب نے ایک بکری کا بچہ ذبح کر کے جلدی سے کچھ حِصہ آگ پر بھونا ، کچھ ہانڈی میں پکایا اور اِن حضرات کے سامنے لا کر رکھا ۔

پاکستان میں انٹرنیٹ سےپیسے کمانے چند اصلی طریقے پڑھیں (یہاں کلک کریں ) 

حُضورﷺ نے ذرا سا گوشت ایک روٹی میں لپیٹ کر ابوایوب کو دیا کہ یہ فاطمہ رضی اللہُ عنہا کو دے آؤ ۔ اس نے بھی کئی دن سے ایسی کوئی چیز نہیں کھائی ۔ وہ جلدی سے دے آئے ۔ ان حضرات نے گوشت روٹی کھایا ۔ اس کے بعد حُضورﷺ نے فرمایا ( اللہ کی اتنی نعمتیں کھائیں ) گوشت اور روٹی اور کچی کھجوریں ، پکی کھجوریں ، یہ فرماتے ہوئے حُضورﷺ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور ارشاد فرمایا کہ یہیں وہ نعمتیں ہیں جن سے قیامت میں سوال ہوگا ۔ صحابہؓ کو یہ سُن کر بڑا شَاقّ ہوا ( کہ ایسی سخت بھوک کی حالت میں یہ چیزیں بھی باز پُرس کے قابل ہیں ) حُضورﷺ نے فرمایا ۔ بیشک ہیں اور اس کی تلافی یہ ہے کہ جب شروع کرو تو بِسم اللہ کے ساتھ شروع کرو اور جب ختم کرو ، تو یہ دُعا پڑھو ،

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ ھُوَاَشْبَعَنَا وَ اَنْعَمَ عَلَیْنَا وَ اَفْضَلَ ۔

 تمام تعریفیں صرف اللہ ہی کے لئیے ہیں ، کہ اسی نے ہم کو ( محض اپنے فضل سے) پیٹ بھر کر عطا کیا اور ہم پر انعام فرمایا اور بہت زیادہ عطا کیا ۔


یہ بھی پڑھیں۔

زیادہ سوچنے کی بیماری کیا ہے ؟ اسکے وجوہات اور علاج کیسے کریں ۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

مینیو