﷽
ایک مرتبہ سخت دھوپ میں دوپہر کے وقت حضرت ابوبکررضی اللہ عنہُ مسجد نبوی میں تشریف لے گئے ۔ حضرت عُمر رضی اللہ عنہُ کو خبر ہوئی ۔ وہ بھی اپنے گھر سے تشریف لائے اور حضرت ابوبکرؓ سے پوچھا کہ اس وقت کیسے آنا ہوا ۔ اُنہوں نے فرمایا کہ بھوک کی شِدَّت نے مجبور کیا ۔ حضرت عُمرؓ نے فرمایا ۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اِسی بےچینی نے مجھے بھی مجبور کیا ۔
نوٹ :
یہ قِصہ فضائل صدقات سے لیا گیا ہے ۔
یہ دونوں اسی حال میں تھے کہ حُضور اَقْدس صلی اللہُ علیہ وسلم اپنے دولت کدہ سے تشریف لائے اور اُن سے دریافت کیا کہ تُم اس وقت کہاں آئے ۔ انہوں نے عرض کیا کہ حُضور بھوک کی شدت نے مجبور کیا ۔ حُضورﷺ نے فرمایا کہ اسی مجبوری سے میں بھی آیا ہوں ۔ یہ تینوں حضرات اُٹھ کر حضرت ابُو اَیوب انصاری رضی اللہُ عنہُ کے مکان پر تشریف لے گئے ۔ وہ خود تو موجود نہیں تھے ، اُن کی اہلیہ نے بہت خوشی کا اِظہار کیا ۔
حُضورﷺ نے دریافت کیا کہ اَبواَیوب کہاں ہیں ۔ بیوی نے عرض کیا کہ حضور ابھی آتے ہیں ۔ اتنے میں ابوایوبؓ آگئے اور جلدی سے کھجور کا ایک توشہ توڑ کر لائے ۔ حُضور نے فرمایا ، سارا خوشہ کیوں تھوڑا ، اس میں سے پکی پکی کیوں نہ چھانٹ لیں ۔ انہوں نے عرض کیا حضرت ، اس خیال سے توڑ لیا کہ پکی اور آدھ کچری اور خشک و تر ہر قسم کے سامنے ہو جائیں جس کی رغبت ہو ۔ اُن حضرات نے ہر قسم کی کجوریں اس خوشہ میں سے نوش فرمائیں ۔ اتنی دیر میں حضرت ابوایوب نے ایک بکری کا بچہ ذبح کر کے جلدی سے کچھ حِصہ آگ پر بھونا ، کچھ ہانڈی میں پکایا اور اِن حضرات کے سامنے لا کر رکھا ۔
پاکستان میں انٹرنیٹ سےپیسے کمانے چند اصلی طریقے پڑھیں (یہاں کلک کریں )
حُضورﷺ نے ذرا سا گوشت ایک روٹی میں لپیٹ کر ابوایوب کو دیا کہ یہ فاطمہ رضی اللہُ عنہا کو دے آؤ ۔ اس نے بھی کئی دن سے ایسی کوئی چیز نہیں کھائی ۔ وہ جلدی سے دے آئے ۔ ان حضرات نے گوشت روٹی کھایا ۔ اس کے بعد حُضورﷺ نے فرمایا ( اللہ کی اتنی نعمتیں کھائیں ) گوشت اور روٹی اور کچی کھجوریں ، پکی کھجوریں ، یہ فرماتے ہوئے حُضورﷺ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور ارشاد فرمایا کہ یہیں وہ نعمتیں ہیں جن سے قیامت میں سوال ہوگا ۔ صحابہؓ کو یہ سُن کر بڑا شَاقّ ہوا ( کہ ایسی سخت بھوک کی حالت میں یہ چیزیں بھی باز پُرس کے قابل ہیں ) حُضورﷺ نے فرمایا ۔ بیشک ہیں اور اس کی تلافی یہ ہے کہ جب شروع کرو تو بِسم اللہ کے ساتھ شروع کرو اور جب ختم کرو ، تو یہ دُعا پڑھو ،
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ ھُوَاَشْبَعَنَا وَ اَنْعَمَ عَلَیْنَا وَ اَفْضَلَ ۔
تمام تعریفیں صرف اللہ ہی کے لئیے ہیں ، کہ اسی نے ہم کو ( محض اپنے فضل سے) پیٹ بھر کر عطا کیا اور ہم پر انعام فرمایا اور بہت زیادہ عطا کیا ۔
یہ بھی پڑھیں۔
زیادہ سوچنے کی بیماری کیا ہے ؟ اسکے وجوہات اور علاج کیسے کریں ۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں